سورة الصافات - آیت 50

فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

پھر ان کے بعض بعض کی طرف متوبہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

14) اہل جنت آمنے سامنے کرسیوں پر بیٹھ کر شراب پئیں گے، باتیں کریں گے، اور دنیا میں ان جو بیتی تھی ایک دوسرے سے بیان کریں گے۔ خدام جنت ان کے سامنے آجا رہے ہوں گے اور انواع و اقسام کی ایسی نعمتیں پیش کر رہے ہوں گے جنہیں دنیا میں نہ کسی آنکھ نے دیکھا تھا نہ کسی کان نے سنا تھا اور نہ کسی دل میں ان کا خیال تک گذرا تھا۔ اس وقت ان میں سے ایک جنتی کہے گا کہ ایک مشرک میرے ساتھ دنیا میں کبھی کبھار بیٹھتا تھا، وہ آخرت کی تکذیب کرتے ہوئے کہتا تھا کہ کیا تم اس بات کو مانتے ہو کہ ہم جب مر کر گل سڑ جائیں گے اور مٹی میں مل جائیں گے تو ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ چکایا جائے گا؟! تو آج ہمارے رب نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ہے، ہمیں جنت میں داخل کردیا ہے اور میرے اس ساتھی کو جہنم میں دھکیل دیا جاتا ہے کہ تم لوگ اسے جہنم میں دیکھنا چاہتے ہو؟ پھر وہ جنتی جہنم میں جھانکے گا، تو اسے بیچ جہنم میں دیکھے گا اور حیرت و دہشت کے ملے جلے جذبات سے متاثر ہو کر اس جہنمی کو پکارے گا اور اس سے کہے گا کہ اللہ کی قسم ! قریب تھا کہ تم مجھے بھی جہنم میں پہنچا دیتے اور اگر مجھ پر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو آج میں بھی تمہارے ساتھ جہنم کی کھائی میں نظر آتا ہے۔