سورة الصافات - آیت 6

إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک ہم نے ہی آسمان دنیا کو ایک انوکھی زینت کے ساتھ آراستہ کیا، جو ستارے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے علم و حکمت کے مظاہر میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کردیا ہے۔ یہ ستارے مختلف الانواع ہیں، ان میں سے کچھ ایک جگہ ثابت ہیں، اور کچھ متحرک، کچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے یہ ستارے رات کے وقت دیکھنے میں روشن اور چمکدار نظر آتے ہیں اور آسمان دنیا کو زینت بخشتے ہیں اور تاریک راتوں میں دیکھنے میں بھلے نظر آتے ہیں۔ ان ستاروں کا ایک دوسرا مقصد یہ ہے کہ ان کے ذریعے شیاطین کو مار کر آسمان کی باتیں سننے سے انہیں دور رکھا جاتا ہے، تاکہ غیب کی باتیں سن کر زمین پر رہنے والے کاہنوں کو نہ بتائیں، شیاطین جب بھی اس کی کوشش کرتے ہیں، فرشتے انہیں آسمان کی ہر جہت سے انگاروں کے ذریعے مارتے ہیں تاکہ انہیں آسمان کی باتیں سننے سے دور رکھیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ان شیاطین کو شدید دائمی عذاب دیا جائے گا۔