سورة يس - آیت 69

وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ہم نے نہ اسے شعر سکھایا ہے اور نہ وہ اس کے لائق ہے۔ وہ تو سرا سر نصیحت اور واضح قرآن کے سوا کچھ نہیں۔

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

34 -مشرکین کہا کرتے تھے کہ محمد شاعر ہے اور قرآن اس کی شاعری کا نتیجہ ہے اس آیت کریمہ میں انہی دونوں باتوں کی تردید کی گئی ہے کہ نہ محمد شاعر ہیں اور نہ قرآن ان کی جدت طبع کا نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے انہیں شاعری نہیں سکھائی ہے کہ وہ شعر کہہ سکیں اور نہ ان کے مقام نبوت کے لئے یہ مناسب ہے منصب نبوت کو شاعری پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ شعراء تو جھوٹ بولتے ہیں اور مباغلہ اور خلاف واقعہ باتیں بیان کرتے ہیں، جبکہ قرآن کریم کتاب الٰہی ہے جس سے مقصود یہ ہے کہ بندوں کو ان کے پیدا کرنے والے کی بندگی کی طرف بلایا جائے اور کفر و سرکشی کے انجام بد سے انہیں ڈرایا جائے،