سورة يس - آیت 68

وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ ۖ أَفَلَا يَعْقِلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے بناوٹ میں الٹا کردیتے ہیں، تو کیا یہ نہیں سمجھتے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

٣٣ جس کی عمر جتنی لمبی ہوتی جاتی ہے، اس کی حالت دن بدن اتنی ہی دگرگوں ہوتی جاتی ہے، اس کا جسم گھلتا جاتا ہے اور ذہنی اور عقلی کیفیت بدلتی جاتی ہے، حتی کہ وہ اس بچے کے مانند ہوجاتا ہے جو اپنی پیدئاش کے وقت تمام بدنی اور عقلی قویٰ سے محروم ہوتا ہے تو جو قادر مطلق انسان کو پیدائش، بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے مراحل سے گذار کر موت کے گھاٹ اتارنے کی قدرت رکھتا ہے کیا وہ اس کی قدرت نہیں رکھتا کہ اسے دوبارہ زندہ کرسکے؟ عقل و فہم کا تو یہی تقاضا ہے کہ وہ یقیناً اس پر قادر رہے۔