سورة يس - آیت 38

وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور سورج اپنے ایک ٹھکانے کے لیے چل رہا ہے، یہ اس سب پر غالب، سب کچھ جاننے والے کا اندازہ ہے۔

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

تیسری عقلی دلیل آفتاب کی یومیہ گردش ہے جس کے مطابق وہ طلوع اور غروب ہوتا ہے اور بخاری و مسلم کی ابوذر غفاری (رض) سے مروی حدیث کے مطابق ہر عرش کے نیچے جا کر رب العالمین کو سجدہ کرتا ہے اور نئے دن کے لئے اپنی گردش جاری رکھنے کی اجازت مانگتا ہے جس غالب و علیم ذات نے اس دقیق نظام شمسی کو قائم کر رکھا ہے، جس سے آفتاب سرموانحراف نہیں کرسکتا، ورنہ کرہ ارض کا پورا نظام درہم برہم ہو کر دنیا خراب و برباد ہوجاتی، کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں پیدا کردہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرسکے؟!