سورة يس - آیت 37

وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے، ہم اس پر سے دن کو کھینچ اتارتے ہیں تو اچانک وہ اندھیرے میں رہ جانے والے ہوتے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

20 عقیدہ بعث بعد الموت کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دن کو رات سے الگ کردیتا ہے، یعنی دن رخصت ہوجاتا ہے اور رات اپنی تاریکی سمیت آجاتی ہے اور ہر چیز کو ڈھانک لیتی ہے رات اور دن کا اس غایت درجہ ترتیب و انتظام کے ساتھ ایک دوسرے کے بعد آتے رہنا اور اس میں ذرا بھی خلل واقع نہ ہونا، اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ وہ کار ساز ارض و سماء یقیناً انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ تیسری عقلی دلیل آفتاب کی یومیہ گردش ہے جس کے مطابق وہ طلوع اور غروب ہوتا ہے اور بخاری و مسلم کی ابوذر غفاری (رض) سے مروی حدیث کے مطابق ہر عرش کے نیچے جا کر رب العالمین کو سجدہ کرتا ہے اور نئے دن کے لئے اپنی گردش جاری رکھنے کی اجازت مانگتا ہے جس غالب و علیم ذات نے اس دقیق نظام شمسی کو قائم کر رکھا ہے، جس سے آفاتب سرموانحراف نہیں کرسکتا، ورنہ کرہ ارض کا پورا نظام درہم برہم ہو کر دنیا خراب و برباد ہوجاتی، کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں پیدا کردہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرسکے؟! چوتھی دلیل زمین کے گرد ماہتاب کی گردش ہے، جس کے مطابق وہ اپنے مقررہ اٹھائیس منال میں پوری پابندی اور ترتیب و انتظام کے ساتھ گھومتا رہتا ہے جس کی وجہ سیدن، ہفتہ، مہینہ اور سال کا حساب معلوم ہوتا رہتا ہے، ابتدا میں چاند پتلا ہوتا ہے، پھر آہستہ آہستہ بڑا ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ چودہویں تاریخ کو بدر کامل بن جاتا ہے، اس کے بعد پھر چھوٹا ہونا شروع ہوتا ہے، یہاں تک کہ مہینہ کے آخر میں کھجور کی پتلی سوکھی اور زرد شاخ کی مانند ہوجاتا ہے جو ذات برحق ماہتاب کی اس حیرت انگیز گردش پر قادر ہے، وہ یقیناً تمام انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار کر دوبارہ زندہ کرنے اور ان کے اعمال کا انہیں حساب چکانے پر قادر ہے۔ آیت 40 میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمی قدرت کو یوں واضح کیا ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ آفتاب ماہتاب کو جا لے، یعنی دونوں ایک جگہ جمع ہوجائیں اور دونوں ایک دوسرے کے عمل میں دخل انداز ہونے لگیں، یہ ناممکن ہے کہ رات اپنے مقرر وقت سے پہلے نکل کر دن سے آگے بڑھ جائے، یا دن رات سے آگے بڑھ جائے، بلکہ دونوں اللہ کی تدبیر و حکمت کے مطابق ہمیشہ ایک دوسرے کے بعد آتے رہتے ہیں۔ آیت کے آخر میں اللہ نے فرمایا کہ شمس و قمر اور کواکب آسمان کے مدار عظیم میں تیرتے رہتے ہیں، نہ وہ آپس میں خلط ملط ہوتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں، ورنہ کائنات کے پرخچے اڑ جاتے اور یہ منظم و مرتب دنیا تباہ و برباد ہوجاتی۔