سورة يس - آیت 3

إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بلاشبہ تو یقیناً بھیجے ہوئے لوگوں میں سے ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

3 نقاش کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی دوسرے نبی کی نبوت کی توثیق کے لئے اپنی کتاب عزیز کی قسم نہیں کھائی ہے اور ایسا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم و تکریم کے لئے کیا گیا ہے کفار قریش آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کرتے تھے کہ تم اللہ کے پیغامبر نہیں ہوجیسا کہ سورۃ الرعد آیت 43 میں ان کا قول نقل کیا گیا ہے : (لسنت مرسلاً) اسی کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے کہ آپ بے شک میرے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور آپ میری سیدھی راہ (دین اسلام) پر گامزن ہیں اور یہ قرآن اس ذات برحق کا نازل کردہ ہے جو ہر حال میں سب پر غالب اور بے حد رحم کرنے والا ہے، اور یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس لئے نازل کیا گیا ہے تاکہ اسے پڑھ کر مشرکین قریش کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں جن کے پاس ایک طویل مدت سے یعنی اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد سے کوئی نبی نہیں بھیجا گیا ہے۔ اسی لئے وہ لوگ خالق و مخلوق کے حقوق کو بھول گئے ہیں اور کفر و فساد اور انکار آخرت جیسی برائیوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔