سورة فاطر - آیت 31

وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ بَصِيرٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور وہ جو ہم نے تیری طرف کتاب میں سے وحی کی ہے وہی حق ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے۔ بے شک اللہ اپنے بندوں کی یقیناً پوری خبر رکھنے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

18 اس آیت کریمہ میں قرآن کریم کی عظمت و حقانیت کو بیان کیا گیا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے، یہ کسی انسان کی گھڑی ہوئی کتاب نہیں ہے اور یہ وہ کتاب برحق ہے جو گزشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، یعنی اس کا پیغام بھی وہی ہے جو تورات و انجیل وغیرہ کا تھا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور چونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات سے خوب واقف ہے، اسی لئے اس کے علم میں یہ بات تھی کہ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے ایک ایسی کتاب کیضرورت ہے جو رہتی دنیا تک ان کجے لئے شمع ہدایت بن کر باقی رہے، چنانچہ اس نے اپنے آخری رسول پر قرآن کریم نازل کیا ہے۔ آیت 32 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اس کتاب کا وارث امت محمدیہ کو بنایا، جنہوں نے صحابہ کرام کے زمانے سے ہر دور میں اسے پڑھا، سمجھا اور دنیا والوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن عمل کے اعتبار سے یہ وارثین قرآن کریم تین طبقوں میں بٹ گئے ایک طبقہ نے اس پر عمل کرنے میں کوتاہی کی اور بعض کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا، دوسرے طبقہ نے واجبات ادا کئے، محرمات سے اجتناب کیا، لیکن بعض مکروہات کا ارتکاب کیا اور بعض مستحبات کی ادائیگی میں سستی کی، اور تیسرے طبقہ نے اللہ کی توفیق سے فرائض و نوافل ادا کئے اور کبائر و صغائر سے اجتناب کیا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنا فضل و کرم فرمائے گا اور سب کو جنت میں داخل کر دے گا، جس میں انہیں پہننے کے لئے سونے اور موتی کے زیرات اور ریشمی لباس ملیں گے، اور تب سب مل کر اپنے رب کی ان کرم فرمائیوں پر اس کا شکر ادا کریں گے جس نے ان کے دل سے ہمیشہ کے لئے حزن وملال دور کردیا اور کہیں گے کہ ہمارا رب بڑا معاف کرنے الا اور نیک اعمال کا بہت ہی اچھا بدلہ دینے والا ہے، اسی لئے تو اس نے گناہ گاروں کو معاف کردیا اور تھوڑی نیکی کرنے والوں کی نیکیوں کو قبول کرلیا اور سب کو جنت میں داخل کردیا۔ نیز کہیں گے : ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں ہمیشہ باقی رہنے والی جنت میں داخل کردیا، جہاں ہمیں کبھی بھی تھکن اور پریشانی لاحق نہیں ہوگی۔