سورة فاطر - آیت 24

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ۚ وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت نہیں مگر اس میں ایک ڈرانے والا گزرا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

15 نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اعلان ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو منبع ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ آپ مومنوں کی جنتکی خوشخبری دیں اور کافروں اور نافرمانوں کو جہنم سے ڈرائیں نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور مومنوں کو خبر دی گئی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے نبی نہیں ہیں جسے اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے، اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں میں سے ہر امت کے پاس اپنا رسول بھیجا جس نے انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا پھر کفار قریش آپ کے نبی ہونے پر کیوں حیرت و استعجاب کا اظہار کرتے ہیں۔ آیت 25 میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لئے کہا گیا کہ اگر کفار قریش آپ کی تکذیب کر رہے ہیں اور آپ کی دعوت کو قبول نہیں کر رہے ہیں، تو آپ فکر مند نہ ہوں اور ہمت نہ ہاریئے، یہ تو پہلے سے ہوتا آرہا ہے کہ جب بھی کسی نبی کو کسی قوم کے پاس معجزات اور حق بیان کرنی والی آسمانی کتاب دے کر بھیجا گیا تو اس قوم نے اس کی تکذیب کی اور انجام کار اللہ نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا اور اس کی گرفت بڑی ہی سخت ہوتی تھی۔