سورة النمل - آیت 93

وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے، عنقریب وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم انھیں پہچان لو گے اور تیرا رب ہرگز اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

آیت (93) میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ نعمت اسلام پر کفار قریش کے سامنے اپنے شکر کا اظہار کریں کہ ہم مسلمان تو اللہ کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں اس عظیم نعمت سے نوازا ہے اور آپ ان سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ مستقبل میں ہمارا رب تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا۔ چنانچہ اللہ نے انہیں اپنی پہلی نشانی میدان بدر میں دکھائی اور دوسری فتح مکہ کے دن اور آخری نشانی موت کے وقت دکھائے گا جب فرشتے ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر ضربیں لگائیں گے اور کہیں گے کہ اب چکھو جہنم کا عذاب۔ آخر میں اللہ نے فرمایا کہ اے میرے نبی ! آپ کا رب لوگوں کے اعمال سے غافل نہیں ہے اور وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ضرور دے گا۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اس میں اللہ کی جانب سے تمام بنی نوع انسان کے لیے بہت بڑی دھمکی ہے۔