سورة النمل - آیت 45

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور بلاشبہ یقیناً ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو اچانک وہ دو گروہ ہو کر جھگڑ رہے تھے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

17۔ اس سورت میں مذکور انبیائے کرام اور ان کی قوموں کے عجیب و غریب واقعت میں سے تیسرا واقعہ صالح (علیہ السلام) کا ہے، اور جیسا کہ اوپر موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے واقعہ میں بتایا گیا ہے کہ ان واقعات سے مقصود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینی، اور کفار مکہ کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی دلیل فراہم کرنی ہے کہ یہ عجیب و غریب واقعات آپ کو بذریعہ وحی بتائے جا رہے ہیں، ورنہ ایک ان پڑھ آدمی جس کا مکہ سے باہر کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں، اسے ان واقعات کی کیسے خبر ہوجاتی جو سیکڑوں سال قبل گذرے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے قوم ثمود کے پاس ان کے نسبی بھائی صالح کو نبی بنا کر بھیجا، جنہوں نے ان سے کہا کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو، تو ایک گروہ نے ان کی دعوت قبول کرلی اور ان پر ایمان لے آیا، اور دوسرے گروہ نے ان کی دعوت کو غھکرا دیا اور بتوں کی پرستش پر مصر رہا، جیسا کہ سورۃ الاعراف آیات 75 76 میں اس مخالفت و عداوت کی تفصیل گذر چکی ہے، اور صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو، چونکہ نشانی آجانے کے بعد اگر ایمان نہ لاتے تو ہلاک کردئیے جاتے، اسی لیے انہوں نے ان کے حال پر رحم کھاتے ہوئے کہا، بجائے اس کے کہ تم ایمان لا کر اللہ کی رحمت کے طالب ہوتے، عذاب طلب کرنے پر کیوں اصرار کر رہے ہو؟ کیوں نہیں اللہ سے مغفرت طلب کرتے ہو تاکہ وہ تم پر رحم فرمائے۔ لیکن صالح (علیہ السلام) کی اس تقریر کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا، اور جواب میں کہا کہ اے صالح ! ہم لوگ تو تم سے اور تمہارے ماننے والوں سے بد شگونی ہی لیتے ہیں، یعنی جب سے تم نے یہ نئی بات شروع کی ہے ہمیں نقصان ہی پہنچتا آیا ہے، صالح (علیہ السلام) نے جواب میں ان سے کہا کہ تمہیں جو بھی خیر و شر پہنچتا ہے وہ اللہ کی تقدیر سے پہنچتا ہے، وہ چاہتا ہے تو تمہیں روزی دیتا ہے، نہیں چاہتا ہے تو محروم رکھتا ہے، حقیقت یہ کہ تم پر تمہارے کفر اور گمراہی کا جادو چل گیا ہے، جو بات تمہاری خواہش نفس کے موافق ہوتی ہے اسے اپنے لیے اچھا سمجھتے ہو اور جو تمہاری مرضی اور خواہش کے موافق نہیں ہوتی اسے اپنے لیے بدشگونی سمجھتے ہو۔