سورة الشعراء - آیت 153

قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

انھوں نے کہا تو تو انھی لوگوں سے ہے جن پر زبردست جادو کیا گیا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

40۔ صالح (علیہ السلام) کی اس طویل تقریر کا ان کی قوم پر کوئی مثبت اثر نہیں ہوا ہوا، اور جواب میں کہا کہ تم پر تو جادو کردیا گیا ہے، جس کے زیر اثر تمہاری عقل ماری گئی ہے، اور ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو۔ تم ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو، اور دعوی کر بیٹھے ہو کہ اللہ نے تمہیں ہمارے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے، اس لیے زبانی دعوی سے کام نہیں چلے گا، اپنی صداقت پر کوئی دلیل پیش کرو، مفسرین لکھتے ہیں کہ صالح (علیہ السلام) نماز پڑھتے رہے اور دعا کرتے رہے، اور لوگ دیکھتے رہے کہ اچانک پہاڑ پھٹا، اور اس سے ایک عظیم الخلقت اونٹنی برآمد ہوئی، تو صالح (علیہ السلام) نے لوگوں سے کہا کہ یہ اونٹنی میری صداقت کی دلیل ہے۔ اور چشمہ سے اس کے پانی پینے کا ایک دن مقرر ہے، اس دن تم لوگ اس چشمہ سے نہیں پئیو گے اور تمہارے پینے کا ایک دوسرا دن مقرر ہے، اس دن اس سے صررف تم لوگ پانی پئیوگے، اونٹنی نہیں پئے گی، اور تم لوگ اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا، نہ مارنا، نہ ذبح کرنا اور نہ اسے اس کے مقرر دن میں پانی پینے سے روکنا، اگر ان باتوں میں سے کسی ایک کی بھی خلاف ورزی کروگے تو تم پر اللہ کا بڑا عذاب نازل ہوجائے گا۔