سورة آل عمران - آیت 15

قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍ مِّن ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہہ دے کیا میں تمھیں اس سے بہتر چیز بتاؤں، جو لوگ متقی بنے ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور نہایت پاک صاف بیویاں اور اللہ کی جانب سے عظیم خوشنودی ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والاہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

قیامت کے دن اہل تقوی کے لیے اچھی منزل کا اجمالی ذکر ہونے کے بعد اب اس کی تفصیل بیان ہو رہی ہے، تاکہ مومنین اس کے حصول کے لیے سبقت کریں۔ جنت میں شہد، دودھ، شراب اور پانی وغیرہ کی نہریں جاری ہوں گی، اور ایسی نعمتیں ہوں گی جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا نہ کسی کان نے سنا ہوگا، اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا کھٹکا ہوا ہوگا۔ پاکیزہ بیوی سے مراد ایسی بیویاں ہیں جو ہر طرح کی نجاست اور گندگی سے پاک ہوں گی، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی سے مراد اللہ کی ایسی رضا ہے جس کے بعد اللہ کبھی بھی جنتیوں سے ناراض نہ ہو، جیسا کہ بخاری و مسلم نے ابوسعید خدری (رض) سے روایت کی ہے، رسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے پوچھے گا کہ کیا تم لوگ خوش ہوگئے، تو جنتی کہیں گے کہ ہم کیوں نہ خوش ہوں، تو نے تو ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو کسی کو بھی نہ دیا، تو اللہ کہے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز دیتا ہوں، میں تمہیں اپنی رضامندی دیتا ہوں ایسی رضامندی جس کے بعد تم پر کبھی بھی ناراض نہ ہوں گا، اے اللہ،! میں تجھ سے جنت الفردوس کی دعا کرتا ہوں، اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگتا ہوں۔