سورة الشعراء - آیت 72

قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہا کیا وہ تمھیں سنتے ہیں، جب تم پکارتے ہو؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

22۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ جب تم لوگ ان بتوں کو پکارتے ہو تو کیا یہ سنتے ہیں، یا تمہیں نفع پہنچا سکتے ہیں، یا اگر تم ان کی عبادت کرنی چھوڑ دو تو کیا یہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اس سوال کا مقصد ان کے دین کا فساد ثابت کرنا تھا، اس لیے کہ اس کا جواب ان کے پاس اس کے سوا کچھ بھی نہیں تھا کہ واقعی یہ بت نہ ہماری پکار کا جواب دیتے ہیں اور نہ ہمیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان تو گویا ان کی عبادت لہو ولعب اور حماقت کے سوا کچھ بھی نہ تھی۔ اسی لیے مشرکین نے اپنے کفر و شرک پر اصرار کرتے ہوئے یہ جواب دیا کہ ہمارے باپ دادے ایسا ہی کرتے آئے ہیں، اس لیے ہم بھی ایسا ہی کریں گے اور اس پر سختی سے قائم رہیں گے۔ خازن نے آیت 74 کی تفسیر کے ضمن میں لکھا ہے کہ یہ آیت کریمہ دینی امور میں تقلید کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور صرف دلائل سے ثابت شدہ احکام کو قبول کرنے کی دعوت دیتی ہے۔