سورة الشعراء - آیت 23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

فرعون نے کہا اور رب العالمین کیا چیز ہے؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

10۔ فرعون نے پوچھا وہ رب العالمین جس کے تم دونوں رسول ہونے کا دعوی کر رہے ہو، وہ کون ہے اور اس کی کیا حقیقت ہے؟ مفسرین لکھتے ہیں کہ فرعون کے اس اسلوب کلام سے غایت درجہ کا تکبر اور اللہ تعالیٰ کی شان میں حد درجہ گستاخی عیاں تھی موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ وہ رب العالمین وہی ہے جو آسمان اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی ہر چیز کا رب ہے اور اگر تم کسی چیز پر یقین کرنا جانتے ہو تو یہ بات بدرجہ اولی یقین کرنے کی ہے، اس لیے کہ اس کے دلائل آفتاب کی طرح روشن ہے فرعون، ان کا یہ جواب سن کر سرداران قوم اور ارکان حکومت کی طرف متوجہ ہوا، اور کبر و غرور کے ساتھ کہنے لگا کہ ذرا تم لوگ اس کی بات تو سنو، میں اس سے اس کے رب کی حقیقت پوچھ رہا ہوں، اور وہ اس کے افعال بتا رہا ہے، یعنی میرے علاوہ کوئی رب العالمین ہے ہی نہیں تو وہ کیسے اپنے کسی دوسرے رب کی حقیقت بتا سکتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ وہ جان بوجھ کر اپنے آپ کو اور اپنی پوری قوم کو دھوکہ دے رہا ہے، اور حقیقت کا اعتراف کرنے سے کترا رہا ہے، تو اس کی اور حاضرین مجلس کی مزید آنکھیں کھول دینے کے لیے انہوں نے کہا کہ وہی جو تمہارا رب ہے اور تمہارے گذشتہ آباء و جداد کا رب ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے صراحت کردی کہ اے فرعون ! تم رب العالمین کا ایک حقیر بندہ ہو، رب نہیں، اور اے فرعون کے ماننے والو, تم رب العالمین کو چھوڑ کر اس کے ایک حقیر بندہ یعنی فرعون کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ فرعون جب بالکل لاجواب ہوگیا، تو اپنی قوم کو مطمئن کرنے کے لیے کہنے لگا کہ موسیٰ پاگل ہوگیا ہے، اور اس کی بات پاگلوں کی بڑ ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ رب العالمین وہ ہے جو مشرق و مغرب اور ان دونوں کے درمیان کی ہر چیز کا رب ہے، اور یہ بات اتنی واضح ہے کہ تھوڑی سی عقل والا آدمی بھی اسے سمجھتا ہے، یعنی اے فرعون ! صرف تمہاری عقل ماری گئی ہے کہ اتنا صاف ستھری بات تمہیں سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے مشرق و مغرب کا رب ہونے کی بات اس لیے کی تاکہ فرعون کے درماغ میں یہ بات آسکے کہ آفتاب کو مشرق سے نکالنے اور مغرب میں ڈبونے پر ان کا معبود فرعون قادر نہیں ہے، تو پھر وہ معبود کیسے ہوسکتا ہے؟ اور تاکہ فرعون کو بتا سکیں کہ تم تو صرف ایک ملک کے بادشاہ ہو، دوسرے ملکوں پر تمہارا کوئی اختیار نہیں ہے، اور رب العالمین تو وہ ہے جس کی بادشاہی مشرق سے لے کر مغرب تک سارے عالم پر ہے