سورة الشعراء - آیت 14

وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ان کا میرے ذمے ایک گناہ ہے، پس میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

6۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا اے میرے رب ! میں قبطیوں کے حق میں ماضی میں ایک گناہ بھی کیا ہے یعنی جب میں مصر میں تھا تو غلطی سے ایک قطبی میرے ہاتھوں مارا گیا، تو مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ مجھے کہیں قتل نہ کردیں اور پیغام رسانی کا کام نہ کرسکوں۔ اللہ تعالیٰ نے کہا، ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ وہ لوگ آپ کو قتل کردیں۔ آپ دونوں ہمارے معجزات لے کر جائیے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اور فرعون کو دعوت توحید دیتے وقت آپ دونوں کی اس سے جو بات ہوگی اسے ہم سنتے رہیں گے۔ سورۃ طہ آیت 46 میں آیا اننی معکما اسمع واری بے شک میں تم دونوں کے ساتھ ہوں، سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہوں۔ اور اس اسلوب کلام سے مقصود موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کی ہمت افزائی اور اللہ کی جانب سے انہیں یقین دہانی تھی کہ وہ ان دونوں کی حفاظت کرتا رہے گا۔