سورة الفرقان - آیت 61

تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بہت برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک روشنی کرنے والا چاند بنایا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

31۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض ایسے مظاہر قدرت کو بیان کیا ہے کہ اگر رحمن کے لیے سجدہ نہ کرنے والے مشرکین ان میں غور و فکر کریں تو وجوب سجدہ کے قائل ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ کی بابرکت ذات نے آسمان میں سات متحرک سیاروں کے بارہ برج یعنی منازل بنائے ہیں۔ وہ سیارے اللہ کے حکم کے مطابق ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں، اور ان کی اس منتقلی سے حالات و واقعات میں مختلف تبدیلی آتی رہتی ہے۔ بعض لوگوں نے بروج سے بڑے بڑے ستارے مراد لیے ہیں۔ شوکانی کے نزدیک پہلا قول راجح ہے۔ نیز اس بابرکت ذات نے آسمان میں آفتاب و ماہتاب بنائے ہیں۔ اور اسی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے لگا دیا ہے۔ ہر ایک دوسرے کے بعد ضرور آجاتا ہے۔ جب سے اللہ نے دنیا بنائی ہے۔ اس نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، جیسا کہ سورۃ ابراہیم آیت (33) میں آیا ہے۔ و سخرلکم الشمس و القمر دائبین، اسی نے تمہارے لیے سورج اور چاند کو مسخر کردیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں، لی و نہار کے اس تعاقب سے اللہ کی عبادتوں کے اوقات کی تعیین ہے۔ اور اگر کوئی شخص دن کی کوئی عبادت بھول جاتا ہے تو اسے رات میں ادا کرلیتا ہے، اور رات کی عبادت دن میں ادا کرلیتا ہے۔ یہ سارے فائدے ان کو حاصل ہوتے ہیں جو اللہ کی عبادت کرنا چاہتا ہے اور اس کی نعمتوں کا شکر بجالانا چاہتا ہے، اور رات میں نمازیں پڑھتا ہے اور اللہ کے سامنے گریہ وزاری کرتا ہے، اور دن کے وقت روزے رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے