سورة الفرقان - آیت 51

وَلَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ نَّذِيرًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اگر ہم چاہتے تو ضرور ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

22۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت اور فضیلت ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو عرب و عجم کی ہر بستی کے لیے الگ الگ پیغمبر بھیج دیتے، جو انہیں ان کے خالق کی عبادت کی دعوت دیتے، لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا، بلکہ تمام انس و جن کے لیے اکیلا آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے، اس سے جہاں آپ کا مقام بہت اونچا ہوگیا ہے، اور آپ کا اجر و ثواب بڑھ گیا ہے، وہیں آپ کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہوگئی ہیں، اس لیے آپ صبر و ثبات سے کام لیجئے اور کسی بھی معاملے میں کافروں کی بات نہ مانئے، اور قرآن کریم کی دعوت ان تک پہنچانے میں پوری طرح کوشاں رہئے، ان کے سامنے اس کی تلاوت کیجئے اور اس میں جو اوامر و نواہی اور نصیحت و موعظت ہیں انہیں بتاتے رہئے، اور اس راہ میں کسی بھی ممکن کوشش سے باز نہ آئیے مفسر ابو السعود لکھتے ہیں کہ اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کافروں کے ساتھ دعوت و تبلیغ کی راہ میں مدارات اور نرمی کرنے سے روک دیا گیا ہے، اس لیے کہ ایسا کرنے سے حق کی آواز دب جائے گی، اور اسلام کے پھیلنے میں تاخیر ہوگی