سورة الفرقان - آیت 32

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً ۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ ۖ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ قرآن اس پر ایک ہی بار کیوں نہ نازل کردیا گیا ؟ اسی طرح ( ہم نے اتارا) تاکہ ہم اس کے ساتھ تیرے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا، خوب ٹھہر کر پڑھنا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

14۔ مشرکین مکہ کبر و نخوت میں آ کر بغیر کسی معقول سبب کے کہتے تھے کہ جس طرح تورات اور انجیل و زبور ایک بار نازل ہوئے تھے، قرآن بھی ایک ہی بار کیوں نہ اتار دیا گیا، حالانکہ اس طرح کے سوالات کرنے کا انہیں کوئی حق نہیں پہنچتا تھا، یہ محض ان کے کفر و عناد کا نتیجہ تھا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے اس قسم کے اعتراضات سے تکلیف پہنچتی تھی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں اطمینان دلانے کے لیے فرمایا کہ قرآن کریم آیتوں اور سورتوں کی شکل میں اس لیے نازل ہو رہا ہے تاکہ آپ کے دل کو اس سے تقویت پہنچتی رہے اور آپ کی ہمت افزائی ہوتی رہے۔ جیسے بارش کا پانی جب زمین پر پہنچتا ہے، تو اس میں نئی زندگی آجاتی ہے، اور انواع و اقسام کے پھول اور پھل نظر آنے لگتے ہیں اور قرآن کریم اس لیے بھی ٹکڑوں میں نازل ہو رہا ہے، تاکہ اس کا یاد کرنا، اسے سمجھنا اور اس پر عمل کرنا آسان ہو۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ بنی اسرائیل آیت 106 میں یوں بیان فرمایا ہے و قرانا فرقناہ لتقراہ علی الناس علی مکث و نزلناہ تنزیلا۔ قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے اس لیے اتارا ہے تاکہ آپ اسے مہلت کے ساتھ لوگوں کو سنائیں اور ہم نے اسے بتدریج نازل فرمایا ہے۔