سورة الفرقان - آیت 7

وَقَالُوا مَالِ هَٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور انھوں نے کہا اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا کہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥) مشرکین مکہ کو نبی کریم کے کردار کے خلاف بات بنانے کی جرات نہیں ہوتی تھی کیونکہ وہی لوگ تو انہیں نبوت سے پہلے صادق و امین کے لقب سے یاد کرتے تھے، اس لیے استہزا آمیز اسلوب میں کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح کھانا کھاتا ہے اور طلب معاش کے لیے بازاروں کے چکر لگاتا ہے، اگر یہ واقعی رسول ہوتا تو آسمان سے ضرور کوئی فرشتہ اترتا جو ہر وقت اس کے ساتھ ہوتا اور اس کی مدد کرتا، یا آسمان سے اس کے لیے خزانہ بھیج دیا جاتا، تاکہ طلب معاش کے لیے اسے کد و کاوش نہ کرنی پڑتی، یا اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہوتا جس کے پھل کھایا کرتا، اللہ تعالیٰ نے آیت (٨) کے آخر میں فرمایا ہے کہ ظالموں نے اسی پر بس نہیں کیا، بلکہ رسول اللہ کو مسحور و مجنون کہا، اور صحابہ کرام سے کہا کہ تم لوگ تو ایک ایسے آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو جس کی عقل جادو کے اثر سے ماری گئی ہے۔ آیت (٩) میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ان باطل اقوال پر اظہار حیرت کرتے ہوئے اور اپنے رسول کی شان میں عظیم گستاخی تصور کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ذرا ان عقل کے مارے مشرکین کی جرات کافرانہ تو دیکھیے کہ کبھی آپ کو جاوگر کہتے ہیں، تو کبھی شاعر اور کبھی کاہن و مجنون کہتے ہیں، اور جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ راہ حق سے دور بھٹک گئے ہیں، ان کی ہدایت کی اب کوئی امید نہیں ہے۔