سورة البقرة - آیت 274

الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

وہ لوگ جو اپنے مال رات اور دن، چھپے اور کھلے خرچ کرتے ہیں، سو ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

371: اللہ کی رضا کی خاطر مال خرچ کرنے والوں کی تعریف کی گئی ہے۔ اور آیت میں رات کو دن پر، اور پوشیدہ کو اعلانیہ پر مقدم کرنے سے مقصود اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ پوشیدہ طور پر دینا افضل ہے اہل وعیال پر کرچ کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ صحیحین میں مروی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد بن وقاص (رض) سے فرمایا کہ رضائے الٰہی کی خاطر تم جو بھی خرچ کروگے، اس سے اللہ کے نزدیک تمہارا مقام بلند ہوگا، حتی کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔