سورة النور - آیت 2

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

جو زنا کرنے والی عورت ہے اور جو زنا کرنے والا مرد ہے، سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمھیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور لازم ہے کہ ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

٢۔ اس آیت کریمہ میں زانیہ اور زانی کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ زانی اور زانیہ اگر غیر شادی شدہ، آزاد، بالغ اور عاقل ہوں گے تو جیسا کہ اس آیت کریمہ میں آیا ہے، انہیں سو کوڑے لگائے جائیں گے، اور جمہور علماء کے نزدیک ایک سال کے لیے شہر بدر کردیئے جائیں گے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک شہر بدر کرنے کا تعلق حاکم وقت سے ہے، اگر وہ چاہے تو کرے، اور چاہے تو صڑف کوڑے لگانے پر اکتفا کرے۔ جمہور کی دلیل صحیحین کی ابو ہریرہ اور زید بن خالد جہنی سے مروی حدیث ہے، جس میں آیا ہے کہ ایک مزدور نے اس آدمی کی بیوی کے ساتھ زنا کیا جس کے پاس وہ کام کرتا تھا، تو آپ نے اسے سو کوڑنے لگانے اور ایک سال تک شہر بدر کرنے کا حکم دیا تھا۔ اگر وہ دونوں غلام اور باندی ہوں گے تو ان میں سے ہر ایک کو پچاس کوڑے لگائے جائیں گے، اس کی دلیل سورۃ النساء آیت (٢٥) ہے : (فان اتین بفاحشۃ فعلیھم نصف ما علی المحصنات من العذاب) اگر لونڈیاں زنا کریں تو انہیں آزاد عورتوں کی آدھی سزا دی جائے۔ یعنی پچاس کوڑے اور غلام کو بھی لونڈی پر قیاس کرتے ہوئے پچاس کوڑے لگائے جائیں گے۔ زانی اور زانیہ اگر آزاد، بالغ، عاقل اور شادی شدہ ہوں گے تو انہیں رجم کردیا جائے گا۔ صحیح اور متواتر سنت سے یہی ثابت ہے، اور اہل علم کا اسی پر اجماع ہے، اس لیے کہ قرآن کریم کی آیت (الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما البتۃ) کا لفظ اگرچہ منسوخ ہوچکا ہے، لیکن اس کا حکم باقی ہے۔ صحیحین کی روایت ہے، عمر بن خطاب نے خطبہ میں کہا، لوگ کہیں گے کہ رجم کا حکم کہاں سے آگیا، قرآن میں تو صرف سو کوڑے لگانے کا حکم ہے۔ حالانکہ رسول اللہ نے رجم کیا اور ان کے بعد ہم (خلفاء) نے رجم کیا ہے۔ اگر کوئی نہ کہتا کہ عمر نے قرآن میں اضافہ کردیا ہے تو رجم کا حکم جس طرح نازل ہوا تھا اسی طرح اس میں لکھ دیتا، اس معنی کی حدیثیں امام مالک، امام احمد اور نسائی وغیرہم نے بھی روایت کی ہیں۔ امام شوکانی لکھتے ہیں کہ سورۃ النساء کی آیات (١٥، ١٦) میں زانی مردوں اور عورتوں سے متعلق قید کرنے اور سزا دینے کا جو حکم بیان کیا گیا ہے، وہ اس آیت کے ذریعہ منسوخ ہے، ان دونوں آیتوں کی تفسیر دیکھ لینا مناسب رہے گا۔ ایک اور قابل ذکر مسئلہ یہ ہے کہ جمہور کے نزدیک شادی شدہ زانی یا زانیہ کو صرف رجم ہی کیا جائے گا، کوڑے نہیں لگائے جائیں گے۔ اس لیے کہ رسول اللہ نے جن مردوں اور عورتوں کو اپنے عہد میں رجم کیا انہیں کوڑے نہیں لگوائے تھے۔ امام احمد کے نزدیک انہیں کوڑے بھی لگوائے جائیں گے ان کی دلیل مسلم، امام احمد وار اصحاب سنن اربعہ کی عبادہ بن صامت سے مردی حدیث ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : مجھ سے حاصل کرو، مجھ سے حاصل کرلو، اللہ نے ان کے لیے راستہ نکال دیا، غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے شہر بدر کردیا جائے گا، اور شادی شدہ زانی اور زانیہ کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں اور سنگسار کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ مسلم سوسائٹی کو بدکاری و فحاشی سے پاک کرنے کے لیے زنا کا ارتکاب کرنے والے مردوں اور عورتوں پر قرآن و سنت سے ثابت شدہ حد کو ضرور نافذ کریں، اور شیطان کے ورغلانے میں آکر ان پر رحم کھاتے ہوئے شرعی حد کے نفاذ میں لیت و لعل سے کام نہ لیں۔ شیطان تو چاہتا ہے کہ مسلم سوسائٹی میں فحاشی اور بدکاری پھیلے، مسلمانوں کی نسلیں خراب ہوں، سوسائٹی میں ناجائز بچے وجود میں آئیں، اور امت مسلمہ کی اساس جس عفت و پاکدامنی اور طہارت و پاکیزگی پر ہے اس کا خاتمہ ہوجائے، جیسا کہ آج مغربی ممالک میں ہورہا ہے، کہ ان کی حکومتوں نے لواطت اور زنا کو قانونی درجہ دے دیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں بن بیاہی مائیں اور ناجائز بچے پائے جاتے ہیں، اور ان کی تعداد بڑھتی ہی جارہ ہے، اور لواطت کو جائز قرار دے دینے کی وجہ سے دن بدن ان کی فطرت مسخ ہوتی جارہی ہے، اور ظاہر میں چلتے پھرتے انسان، اندر سے سوروں سے بھی بدتر ہوگئے ہیں۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ زانی مرد اور زانیہ عورت پر لوگوں کے سامنے حد جاری کی جائے تاکہ دوسرے لوگ عبرت حاصل کریں۔