سورة المؤمنون - آیت 57

إِنَّ الَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک وہ لوگ جو اپنے رب کے خوف سے ڈرنے والے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١٦۔ کافروں کے برعکس اللہ کی جانب سے خیرات و برکات کے حقدار وہ ہوتے ہیں جو مندرجہ ذیل چار صفات سے متصف ہوتے ہیں : پہلی صٖفت ہے کہ وہ اللہ کے عذاب کے خوف سے لرزاں رہتے ہیں۔ دوسری صفت یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی آیتوں اور دلیلوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ تیسری یہ ہے کہ وہ اپنے کا کسی کو شریک نہیں بناتے، اور چوتھی یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوئے خائف رہتے ہیں کہ معلوم نہیں صدقہ قبول ہوگا کہ نہیں اور انہیں یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ قیامت کے دن انہیں اللہ کے عذاب سے کیسے چھٹکارا ملے گا۔ آیت (٦١) میں کہا گیا ہے کہ یہی لوگ درحقیقت ہر خیر و برکت کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم وغیرہم نے عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کا قول (والذین یوتون ما اتو و قلوبھم وجلۃ) کیا اس کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی چوری کرے، زنا کرے اور شراب پیے، اور اس کے باوجود اللہ سے ڈرتا رہے؟ تو آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی روزہ رکھے، صدقہ کرے اور نماز پڑھے اور اس کے باوجود اللہ سے ڈرے کہ ایسا نہ ہو اس کا عمل قابل قبول نہ ہو۔