سورة الحج - آیت 52

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ہم نے تجھ سے پہلے نہ کوئی رسول بھیجا اور نہ کوئی نبی مگر جب اس نے کوئی تمنا کی شیطان نے اس کی تمنا میں (خلل) ڈالا تو اللہ اس (خلل) کو جو شیطان ڈالتا ہے، مٹا دیتا ہے، پھر اللہ اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٩) کفار و مشرکین کی جانب سے نبی کریم کو جب بھی کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کو تسلی دی جاتی تاکہ آپ کی ہمت بندھی رہے اور اپنا مشن جاری رکھیں۔ ابھی آیت (٤١) میں آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ کفار اگر آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو دل برداشتہ نہ ہوں تمام انبیاء کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہا ہے، اس آیت کریمہ میں بھی آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ قرآن پڑھ رہے ہوں، اور شیطان اپنی طرف سے مشرکوں کے کانوں تک کچھ کلمات پہنچا دے تو آپ پریشان نہ ہوں، اللہ تعالیٰ ان کلمات کو زائل کردے گا اور قرآن کی آیتوں کو محکم بنا دے گا۔ اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں جو واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ایک دن خانہ کعبہ کے پاس نماز میں سورۃ النجم کی تلاوت کر رہے تھے تو مشرکین سن رہے تھے آپ نے جب (افرائتم الات والعزی۔ ومناۃ الثالثۃ الاخری) کی تلاوت کی تو شیطان نے ان کی زبان پر تلک الگرانیق العلا، وان شفاعتھن لترتجی یہ بلند مقام دیویاں، بیشک ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے، جاری کردیا، جسے سن کر مشرکین بہت خوش ہوئے اس میں ان کے بتوں کی تعریف تھی یہ بالکل بے اصل اور بے بنیاد واقعہ ہے۔ بیہقی کہتے ہیں کہ یہ قصہ من گھڑت ہے۔ ابن خزیمہ نے لکھا ہے کہ یہ قصہ زنادقہ نے گھڑا تھا، قاضی عیاض اپنی کتاب الشفا میں لکھتے ہیں : امت کا اس پر اجماع ہے کہ نبی کریم نے اللہ کی جانب سے جو کچھ بھی پہنچایا اس میں قصدا یا غلطی سے یا بھول کر کسی طرح بھی ایک حرف کا اپنی طرف سے اضافہ نہیں کیا۔ رازی کہتے ہیں کہ یہ قصہ باطل ہے، قرآن نے آپ کے بارے میں بہت سی آیتوں میں جو کچھ کہا ہے کہ نہ وہ اپنی طرف سے کچھ کہتے ہیں اور بھولتے ہیں اس کے خلاف ہے۔ اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ نبی کریم نے کسی بھی حیثیت سے بتوں کی تعظیم کی اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔ محدث البانی نے بھی اس قصہ کو باطل قرار دیا ہے اور اس کی تردید میں ان کا ایک رسالہ بھی ہے، جو اہل علم کے درمیان مشہور ہے۔ البتہ حافظ ابن حجر تین صحیح مرسل روایتوں کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ اتنی بات ثابت ہے کہ آپ نے جب سورۃ النجم کی تلاوت کی تو شیطان نے اپنی طرف سے مشرکوں کے کان میں ایسے کلمات ڈال دیئے جن میں بتوں کی تعریف تھی۔ رسول اللہ کی زبان پر وہ کلمات جاری نہیں ہوئے تھے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے ہمارے نبی ! ہم نے آپ سے پہلے بھی جب کوئی رسول یا نبی بھیجا اور اس نے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کی تو شیطان نے اس کی تلاوت کے درمیان کچھ اپنی طرف سے مشرکوں کے کان تک پہنچا دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہی شیطان کے القا کردہ کلمات کو زائل و باطل بنا دیا اور اپنی آیتوں کو محکم اور ثابت کردیا۔ ایسا اس لیے ہوتا رہا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کلمات کو منافقین و مشرکین کے لیے گمراہی اور حق سے دوری کا سبب بنا دے، اور اہل علم مومنوں کا ایمان مزید راسخ ہوجائے کہ قرآن کریم میں جو آیات ثابت ہیں وہی برحق ہیں اور ان پر ایمان لانا ضروری ہے، اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا رہا کہ ان کے دلوں کو سکون و اطمینان حاصل ہو اور ان کا ایمان اور بڑھ گیا۔ صاحب محاسن التنزیل نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جب بھی کسی رسول یا نبی نے چاہا کہ اس کی دعوت پھیلے اور اس کی لائی ہوئی شریعت کو تیزی کے ساتھ سربلندی حاصل ہو، تو شیطان نے رکاوٹیں کھڑی کرنی چاہیں، اور لوگوں کو اس کی دعوت قبول کرنے سے روکنا چاہا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی چالوں کو ناکام بنا دیا اور اپنے دین اور اپنی آیتوں کو استحکام عطا کیا۔ آیت (٥٤) کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اپنے مومن و متقی بندوں کی ہر حال میں سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور انہیں شیطان کے نرغے سے بچاتا ہے۔ آیت (٥٥) میں فرمایا کہ اہل کفر قرآن کی حقانیت میں ہمیشہ شک کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ یا تو اچانک قیامت آجائے گی یا کوئی اسیا دنیاوی عذاب انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا جس میں کوئی بھی خیر نہیں ہوگی۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ وہ جنگ بدر کا دن تھا جب ان میں سے بہت سے لوگ زلت و رسوائی کے ساتھ قتل کردئے گئے اور بہت سے قید کرلیے گئے اور تب انہیں معلوم ہوگیا کہ قرآن اور دین اسلام برحق ہے۔