سورة الحج - آیت 2

يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اس سے غافل ہوجائے گی جسے اس نے دودھ پلایا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو نشے میں دیکھے گا، حالانکہ وہ ہرگز نشے میں نہیں ہوں گے اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢) مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جو بڑا جھگڑا لو تھا، اور اس بات کا منکر تھا کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی، بہرحال آیت چاہے جس کے بارے میں بھی نازل ہوئی ہو، لیکن اس کا مفہوم عام ہے اور ہر اس آدمی کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور نبی کریم کی نبوت کا انکار کرتا ہے، اللہ کے لیے اولاد ثابت کرتا ہے اور خیر و صلاح سے دور ہر شیطان کی اتباع کرتا ہے۔ آیت (٤) میں اللہ تعالیٰ نے بصراحت تمام فرما دیا کہ جو شخص بھی شیطان کو اپنا دوست بنائے گا، اور اس کی پیروی کرے گا، شیطان اسے راہ حق سے دور کردے گا، اور جہنم کی آگ تک پہنچا دے گا۔