سورة الأنبياء - آیت 92

إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک یہ ہے تمھاری امت جو ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمھارا رب ہوں، سو میری عبادت کرو۔

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

(٣٣) یہاں ’’امۃ‘‘ سے مراد دین وملت ہے، اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ مذکورہ بالا آیتوں میں جن انبیائے کرام کا ذکر آیا ہے ان کے علاوہ بھی حضرت آدم سے لے کر نبی کریم تک جتنے انبیا گزرے ہیں۔ سبھوں کا عقیدہ اور دین ایک ہی تھا، سبھی عقیدہ توحید پر قائم اور اس کی دعوت دینے والے تھے، ہر نبی نے اپنے عہد کے لوگوں کو توحید باری تعالیٰ کی دعوت دی، شرک سے ڈرایا اور انہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام مخلوقات کا رب ہے، اس لیے صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔