سورة الأنبياء - آیت 83

وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ایوب، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بے شک میں، مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٢٧) ان انبیائے صالحین میں سے ایوب (علیہ السلام) بھی تھے، کہتے ہیں کہ ان کا زمانہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد کا تھا اور ان کا علاقہ بحر میت کے جنوب شرق میں تھا، وہ اللہ کے بڑے ہی شاکر و صابر بندے تھے، اللہ نے انہیں خوب مال و دولت اور اولاد و جاہ سے نوازا تھا، اس لیے اپنے رب کا خوب شکر کرتے تھے، اس کے بعد اللہ نے انہیں بیماری میں مبتلا کردیا اور اولاد و دولت سب جاتی رہی تو اپنے رب کی رضا کے لیے بہت ہی صبر سے کام لیتے رہے، اور دل میں شکوہ کو جگہ نہیں دی، جب ان کی تکلیف حد سے بڑھنے لگی اور اسی حال میں اٹھارہ سال کا زمانہ گزر گیا تو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی، ان کی بیماری جاتی رہی اور اللہ نے اپنے فضل و کرم سے انہیں پہلے سے بھی زیادہ مال و دولت اور اولاد و جاہ سے نوازا۔ اس واقعہ سے نصیحت ملتی ہے کہ صبر کا انجام ہمیشہ اچھا ہوتا ہے اور اسمائے حسنی اور صفات علیا کے واسطے سے اللہ کے حضور دعا اور گرزیہ و زاری سے مصیبت دور ہوتی ہے اور دنیا کی مصیبت و تکلیف اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ بندہ اپنے رب کی نگاہ میں ذلیل و بدبخت ہے اور ایمان و اخلاص کے ساتھ صبر کرنے سے اللہ تعالیٰ پہلے سے کئی گنا زیادہ دیتا ہے۔