سورة مريم - آیت 96

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَٰنُ وُدًّا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے عنقریب ان کے لیے رحمان محبت پیدا کر دے گا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥٥) قرآن کریم کے مالوف طریقے کے مطابق، کفار و مشرکین کے بعد اب اللہ کے نیک بندوں کا ذکر ہورہا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی محبت اپنے نیک بندوں کے دلوں میں جاگزیں کردیتا ہے۔ بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل سے کہتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو تو جبیل اس سے محبت کرتے ہیں، پھر آسمان میں اعلان کردیتے ہیں کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے، تم سب بھی اس سے محبت کرو، تو اہل آسمان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر اہل زمین کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دی جاتی ہے۔ الحدیث صاحب محاسن التنزیل نے مفسر ابو مسلم کے حوالے سے آیت (٩٦) کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کا تعلق قیامت کے دن سے ہے، یعنی جنت میں اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ان کی محبوب چیزیں دے گا۔ اور اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ دنیا میں تو مرد صالح کفار اور بہت سے مسلمانوں کی نگاہ میں مبغوض ہوتا ہے، نیز دنیاوی محبت ان کے نیک اعمال کا نیتجہ ہوتا ہے، اور آیت کریمہ میں تو عطائے ربانی کا وعدہ ہے جو اخروی منافع و فوائد کے ذریعہ پورا ہوگا۔