سورة مريم - آیت 94

لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بلاشبہ یقیناً اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے اور انھیں خوب اچھی طرح گن کر شمار کر رکھا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥٤) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں پائی جانے والی تمام مخلوقات کا کلی طور پر احاطہ کر رکھا ہے اور ایک ایک کو گن رکھا ہے اگر ان میں کوئی معبود ہوتا یا اللہ کا بیٹا ہوتا تو اسے یقینا اس کی خبر ہوتی، اور قیامت کے دن ان مخلوقات کا ایک ایک فرد اللہ کے حضور تنہا آئے گا، ان کا نہ کوئی یارومددگار ہوگا اور نہ ہی کوئی سفارشی۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ آیت (٩٥) میں ان کفار کی تردید کی گئی ہے جو اپنے استکبار کی وجہ سے کہتے تھے کہ اگر بالفرض قیامت آئے گی تو اس دن بھی ہمارے پاس غریب و بدحال مسلمانوں سے زیادہ مال و اولاد ہوگی۔