سورة مريم - آیت 55

وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور وہ اپنے رب کے ہاں پسند کیا ہوا تھا۔

تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان السلفی رحمہ اللہ

اور وہ موسیٰ کے مانند رسول اور نبی تھے اور اپنے اہل و عیال کو نماز و زکوۃ اور دیگر نیک کاموں کا حکم دیتے تھے، تاکہ دوسروں کے لیے اچھی مثال بنیں (اور اس لیے بھی کہ ان کے اہل و عیال دوسروں کی بہ نسبت دینی خیر خواہی کے زیادہ حقدار تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم سے فرمایا ہے : ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾آپ اپنے زیادہ قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے۔ (الشعرا : 214) اور فرمایا : ﴿وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ ﴾ آپ اپنے اہل کو نماز کا حکم دیجیے۔ (طہ : 132) اور فرمایا : ﴿ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ (مومنو) اپنے آپ کو اور اپنے بال بچوں کو آگ سے بچاؤ (التحریم : 6) اور وہ اپنے رب کی نگاہ میں بڑے پاکباز نیک سیرت اور صالح انسان تھے۔