سورة الكهف - آیت 58

وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ ۖ لَوْ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ ۚ بَل لَّهُم مَّوْعِدٌ لَّن يَجِدُوا مِن دُونِهِ مَوْئِلًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور تیرا رب نہایت بخشنے والا، خاص رحمت والا ہے، اگر وہ انھیں اس کی وجہ سے پکڑے جو انھوں نے کمایا ہے تو یقیناً ان کے لیے جلد عذاب بھیج دے، بلکہ ان کے لیے وعدے کا ایک وقت ہے جس سے بچنے کی وہ ہرگز کوئی پناہ گاہ نہ پائیں گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣٥) آپ کا رب بڑا مغفرت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے، اسی لیے ان کافروں کے کفر و معاصی پر ان کا مواخذہ نہیں کرتا ہے ونہ ان کے جیسے جرائم ہیں، ان پر جلد ہی عذاب آجانا چاہیے تھا اور اس تاخیر عذاب کے سبب ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ نے اسلام لانے کی توفیق دے دی، اور جو اپنے حال پر باقی رہے، ان کو ان کے کفر و عناد کے مطابق سزا دینے کا ایک وقت مقرر ہے جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اس دن سے مراد یا تو یوم آخرت ہے یا یوم بدر۔