سورة الإسراء - آیت 94

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ إِلَّا أَن قَالُوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَّسُولًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور لوگوں کو کسی چیز نے نہیں روکا کہ وہ ایمان لائیں، جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اس بات نے کہ انھوں نے کہا کیا اللہ نے ایک بشر کو پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٥٩) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار قریش کا ایک شبہ بیان کیا ہے جسے قرآن کریم میں بار بار دہرایا گیا ہے۔ وہ یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اپنا رسول بنا سکتا ہے، اور ان کا یہی شبہ رسول اللہ پر ایمان لانے سے مانع تھا۔ سورۃ یونس آیت (٢) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (اکان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منھم ان انذر الناس) کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک آدمی پر وحی نازل کی ہے اور اسے حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ کا خوف دلایئے۔