سورة الإسراء - آیت 26

وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین اور مسافر کو اور مت بے جا خرچ کر، بے جا خرچ کرنا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(١٦) والدین کے بعد دیگر رشتہ داروں، فقیروں اور مسافروں کا خیال کرنے کی نصیحت کی گئی ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ آیت میں قریب کے بجائے ذو القربی سے اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ اگر کسی کے ساتھ ادنی سی بھی قرابت ہے تو اس کا خیال رکھا جانا چاہیے، اور صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ اقارب کو صدقہ دینے میں صلہ رحمی کا بھی اجر ملتا ہے۔ آخر میں فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے جیسے کوئی آدمی اپنا مال ناجائز کاموں میں خرچ کرے، یا ان لوگوں پر خرچ کرے جو شرعی اصولوں کے مطابق مستحق نہ ہوں، زمخشری نے کشاف میں لکھا ہے کہ دور جاہلیت میں لوگ اونٹ ذبح کر کے اپنی مالداری کا اظہار کرتے، اور فخرو ریاکاری کے دوسرے کاموں میں اپنا مال خرچ کرتے اور اپنے اشعار میں اس کا ذکر کرتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنا مال ایسے کاموں پر خرچ کریں جو انہیں اللہ سے قریب کرے۔ آیت (٢٧) میں اوپر کے حکم کی علت بیان کی گئی ہے کہ فضول خرچی کرنے والے لوگ ناشکری میں شیطان کے مانند ہیں، اور یہ انسان کی غایت خدمت ہے کیونکہ شیطان سے زیادہ کوئی برا نہیں ہے، یا مفہوم یہ ہے کہ فضول خرچی کرنے والے لوگ جہنم میں شیطان کے ساتھی ہوں گے۔ آیت کے آخر میں گزشتہ علت کی تکمیل ہے کہ شیطان سے بڑھ کر اللہ کا کوئی ناشکرا بندہ نہیں ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جتنی صلاحتیں دی ہیں ان سب کو اس نے ارتکاب معاصی، زمین میں فساد پھیلانے، لوگوں کو گمراہ کرنے اور کفر کی طرف بلانے میں لگا دیا ہے، اسی طرح اگر کوئی آدمی اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اللہ کی بندگی کے بجائے ناجائز کاموں پر خرچ کرتا ہے تو گویا وہ شیطان کے مانند ہے۔