سورة الإسراء - آیت 4

وَقَضَيْنَا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں فیصلہ سنا دیا تھا کہ بے شک تم زمین میں ضرور دو بار فساد کرو گے اور بے شک تم ضرور سرکشی کرو گے، بہت بڑی سرکشی۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٣) اللہ تعالیٰ نے تورات میں بنی اسرائل کے بارے میں یہ خبر دی تھی کہ وہ لوگ گناہوں کا ارتکاب کر کے زمین میں فساد پھیلائیں گے اللہ کے قوانین کی نافرمانی کریں گے اور لوگوں پر ظلم کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور زمین کو ظلم و فساد سے بھر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کردیا جو بہت ہی زیادہ طاقتور اور ظلم و جور والے تھے، انہوں نے ان کے گھروں میں گھس کر خوب قتل و غارتگری کی اور انہیں غلام بنا لیا۔ جب انہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ اولاد اور مال و دولت سے نوازا اور ان کی ذریت میں خوب برکت دی، یہاں تک کہ ان کی بہت بڑی تعداد ہوگئی۔ آیت (٧) میں اوپر کہی گئی بات کی علت بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہوجائے کہ اگر وہ توبہ کریں گے اور اپنے اعمال کی اصلاح کریں گے تو اس کا اچھا نتیجہ انہی کو ملے گا اور اگر اپنے گناہوں پر اصڑار کریں گے تو اس کا برا انجام انہی کو ملے گاس۔ جیسا کہ اب تک ہوا ہے کہ جب وہ اچھے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نعمتوں سے نوازا اور جب تمرد اور سرکشی کی زندگی اختیار کرلی تو اللہ نے اپنے طاقتور بندوں کو ان پر مسلط کردیا اور اپنی نعمتیں چھین لیں، اور جب دوبارہ خراب ہوگئے تو اللہ نے ان پر دوبارہ ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا، جنہوں نے ان پر خوب ظلم کیا اور انہیں قید و بند کی زندگی سے گزارا، مسجد اقصی کو منہدم کیا اور ہر چیز کو تباہ و برباد کردیا۔ آیت (٨) میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا ان کے برے اعمال کا نتیجہ تھا اور اس لیے ہوا تاکہ وہ دوبارہ اللہ کی طرف رجوع کریں اپنے گناہوں سے تائب ہوں اور تورات کے مطابق اپنی زندگی گزاریں، اس لیے کہ اب تو انہیں معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب گناہوں کی وجہ سے آتا ہے، اور نجات توبہ کے ذریعہ ملتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بنی اسرائل اپنی توبہ پر قائم نہیں رہے اور سہ بارہ تمرد اور سرکشی کی زندگی اختیار کئی تو اللہ تعالیٰ نے سہ بارہ ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا۔ قرآن کریم کے اس اجمال کو سمجھنے کے لیے تھوڑی تفصیل کی ضرورت ہے جو مندرجہ ذیل ہے : کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے تقریبا نو سو سال پہلے، سلیمان (علیہ السلام) کی موت کے بعد ان کے لڑکے نے زمام حکومت سنبھالی جس نے اپنی قوم کے لیے بتوں کی عابدت کو جائز قرار دے دیا۔ چناچنہ مصر کے بادشاہ نے بیت المقدس پر حملہ کر کے ہیکل سلیمجانی یعنی مسجد اقصی کے خزانے لوٹ لئے، اور حالت بایں جارسید کہ ملک کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ ایک کا نام مملکت یہوذا پڑا جو یہوذا اور بنیامین کی اولاد پر مشتمل تھی، اور دوسرے کا نام مملک اسرائیل پڑا جو یعقوب (علیہ السلام) کے دوسرے دس بیٹوں کی اولاد سے بنی تھی۔ مملکت اسرائیل کا پہلا بادشاہ یربعام بنا جس نے سونے کے دو بچھڑے بنا کر اپنی رعایا کو ان کی عبادت کا حکم دیا، تاکہ انہیں بیت المقدس نہ جانا پڑے، اس لیے کہ اسے ڈر تھا کہ وہاں جاکر کہیں مملکت یہوذا کے بادشاہ سلیمان کے بیٹے کی تائید نہ کرنے لگیں، ان لوگوں نے ڈھائی سو سال تک حکومت کی، اس بیچ میں ان کے بعض بادشاہوں نے بت پرستی کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن پھر پہلی حالت عود کر آئی تھی۔ جب ان کے گناہ بہت زیادہ بڑھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اشور کے بادشاہ کو مسلط کردیا جس کے ہاتھوں مملکت اسرائیل کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد مملکت یہوذا بیس سال سے کچھ زیادہ دونوں تک باقی رہی۔ بالاخر ان کا بادشاہ ایک بڑا ہی خبیث اور مشرک اڈمی بنا جس کے گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر بابل کے بادشاہ بخت نصر کو مسلط کردیا، جس نے ان میں سے بتوں کو غلام بنا لیا۔ یہ ان کی پہلی ذلت و رسوائی تھی جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے۔ اس کے بعد اس کا بیٹا بادشاہ بنا جو اپنے باپ ہی کے مانند تھا چنانچہ آٹھ سال کے بعد دوبارہ بخت نصر نے پھر ان پر چڑھائی کی اور خوب لوٹ مار کیا اور بہتوں کو غلام بنا لیا، یہ ان کی دوسری ذلت و رسوائی تھی۔ ان کا آخری بادشاہ تمام اگلے بادشاہوں سے برا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے سہ بارہ شاہ بابل کو ان کے خلاف فوج کشی پر ابھارا، اس نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا اس بادشاہ کو پابند سلاسل کیا، شہر اور ہیکل سلیمانی کو جلا کر خاکستر کردیا، اور کچھ مسکینوں کے علاوہ تمام قوم یہوذا کو غلام بنا لیا، اور انہیں جانوروں کی طرح ہانک کر بابل لے گیا، اور مملکت یہوذا کا خاتمہ ہوگیا، یہ ان کی تیسری ذلت و رسوائی تھی۔ ستر سال کے بعد جب غلامی سے آزاد کیے گئے تو دوبارہ آکر فلسطین میں آباد ہوئے، لیکن اس کے بعد ہمیشہ کسی نہ کسی کے زیر اثر ہی رہے۔ فارس و یونان اور روم کے بادشاہوں نے انہیں کبھی بھی چین سے نہ رہنے دیا، یہاں تک کہ عمر بن خطاب نے بیت المقدس کو فتح اور صخرہ سے قبلہ کی جانب مسجد تعمیر کی جسے دوبارہ ولید بند عبدالملک نے بونائی جو اب تک باقی ہے۔