سورة النحل - آیت 104

إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ لَا يَهْدِيهِمُ اللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک وہ لوگ جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اللہ انھیں ہدایت نہیں دیتا اور انھی کے لیے دردناک عذاب ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٦٦) رسول اللہ کی طرف افترا پردازی کی نسبت کی تردید کرنے کے بعد کہا جارہا ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہیں کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ حق کی طرف ان کی رہنمائی نہیں کرتا ہے، اور آخرت میں انہیں دردناک عذاب ملے گا۔ اور نبی کریم کی صداقت کی بشارت دیتے ہوئے آیت (١٠٥) میں فرمایا کہ جھوٹ وہ لوگ بولتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے، جھوٹ بولنا کافروں کی لازمی صفت اور ان کی عادت ہے (اور کفار قریش اس زمرے میں بدرجہ اولی داخل ہیں) اور اس سے بڑھ کر جھوٹ کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں، رسول اللہ تو مومنوں کے سردار ہیں اور سب سے سچے، سب سے نیک اور ایمان و عمل کے اعتبار سے سب سے اچھے انسان ہیں وہ کیسے جھوٹ بول سکتے ہیں۔ موطا امام مالک کی روایت ہے نبی کریم سے پوچھا گیا کہ کیا مومن جھوٹ بولتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا : نہیں، پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔