سورة یونس - آیت 54

وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِي الْأَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهِ ۗ وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ ۖ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اگر فی الواقع ہر شخص کے لیے جس نے ظلم کیا ہے، وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے تو وہ اسے ضرور فدیے میں دے دے اور وہ پشیمانی کو چھپائیں گے، جب عذاب کو دیکھیں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٤٢) اس آیت میں قیامت کے دن کی منظر کشی کی گئی ہے، کہ اس دن ظالم لوگ چاہیں گے کہ کاش وہ پوری دنیا دے کر اللہ کے عذاب سے اپنی جان کا چھٹکارا کرالیتے، اور وہ اپنے کیے پر دل میں افسوس کریں گے، اور ان کے حق میں اللہ کا فیصلہ پورے عدل و انصاف کے ساتھ صادر ہوگا۔