سورة التوبہ - آیت 123

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں سے تمھارے قریب ہیں اور لازم ہے کہ وہ تم میں کچھ سختی پائیں اور جان لو کہ بے شک اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(٩٨) اللہ تعالیٰ نے جہاد کے سلسلہ میں یہ حکم دیا کہ پہلے ان کافروں سے جنگ کی جائے جو مدینہ کے قریب رہتے ہیں اور جب وہ حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں تو آگے بڑھا جائے، اور ان کے بعد رہنے والے کافروں سے جنگ کی جائے، رسول اللہ نے اسی اصول کو برتا، چنانچہ آپ کی جہادی کوششوں کے نتیجہ کے طور پر آپ کی زندگی کے آخری ایام میں جزیرہ عرب مشرکین سے پاک ہوگیا، تو اہل کتاب تک دعوت اسلام پہنچانے کے لیے تبوک تک گئے اور وہاں بیس دن رہنے کے بعد واپس ہوئے اور اس غزوہ سے اسلام کو عظیم فوائد حاصل ہوئے جن کی کچھ تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ نبی کریم کی وفات کے بعد خلفائے راشدین نے اپنے اپنے دور میں جہاد کی تحریک کو جاری رکھا یہاں تک کہ اردن، شام، عراق اور فارس کے علاقے اسلام کے زیر نگیں ہوگئے اسلام کا جھندا ہر طرف لہرانے لگا اور دیگر ذرائع سے دولت کی ریل پیل ہوگئی۔ آیت کے آخرت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ کافروں کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے کسی قسم کی نرمی کا مظاہرہ نہ کریں، ورنہ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس کی تاکید فرما دی ہے۔