سورة التوبہ - آیت 81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ وَكَرِهُوا أَن يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالُوا لَا تَنفِرُوا فِي الْحَرِّ ۗ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا ۚ لَّوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے وہ اللہ کے رسول کے پیچھے اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہوگئے اور انھوں نے ناپسند کیا کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کریں اور انھوں نے کہا گرمی میں مت نکلو۔ کہہ دے جہنم کی آگ کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش! وہ سمجھتے ہوتے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

62۔ جو منافقین غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غزوہ کے لیے روانگی کے بعد خوش ہوئے کہ انہیں جانا نہ پڑا، اور دوسروں کو بھی روکا کہ گرمی میں کہا جاؤ گے، انہی کا حال اور آخرت میں ان کا انجام بد بیان کیا جا رہا ہے اور آیت 82 میں انہیں دھمکی دی جارہی ہے کہ آج وہ تھوڑا سا ہنس لیں آخرت میں اپنے اس برے کردار کی وجہ سے انہیں بہت رونا پڑے گا۔