سورة التوبہ - آیت 51

قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہہ دے ہمیں ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا، وہی ہمارا مالک ہے اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ ایمان والے بھروسا کریں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

40۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی بکواس کا جواب دیا ہے کہ اے میرے رسول ! آپ ان سے کہئے کہ ہمیں دنیا میں اگر کوئی خوشی ملتی ہے تو اللہ کا انعام ہوتا ہے، اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ کی مشیت سے، ہمیں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اسے اللہ نے ہماری تقدیر میں لکھ رکھا ہے۔ تمہیں اپنے قتل نہ ہونے پر خوش نہیں ہونا چاہیے، جب تمہاری باری آجائے گی تو کوئی تدبیر تمہیں بچا سکے گی، اور ہم تو مسلمان ہیں۔ ہمارا آقا تو اللہ ہے، ہم تو ہر حال میں اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ آیت 52 میں منافقین کو مزید ذہنی اذیت پہنچانے کے لیے اللہ نے کہا کہ اے میرے رسول ! آپ ان سے کہئے کہ تم ہمارے بارے میں اللہ کی جانب سے دو عظیم بھلائیوں میں سے ایک کے سوا اور سوچ ہی کیا سکتے ہو، یا تو ہمیں دشمنوں پر فتح ملے گی یا اللہ کی راہ میں شہادت اور ہم تمہارے بارے میں انتظار کر رہے ہیں کہ کب اللہ تم پر کوئی عذاب بھیج دے، یا ہمارے ہاتھوں تمہارا صفایا کروادے، اس لیے تم بھی انتظار کرلو، ہم بھی انتظار کرلیتے ہیں، عنقریب تم ہماری خوشیوں کا مشاہدہ کرلو گے اور ہم تماہرے غم و آلام کے قصے غیروں سے سن لیں گے۔