سورة البقرة - آیت 111

وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور انھوں نے کہا جنت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے مگر جو یہودی ہوں گے یا نصاریٰ۔ یہ ان کی آرزوئیں ہی ہیں، کہہ دے لاؤ اپنی دلیل، اگر تم سچے ہو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١٦٣: یہاں اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے غرور کی خبر دی ہے، ان میں سے ہر ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ جنت میں وہی داخل ہوگا، جو اس کے دین کو ماننے والا ہوگا، اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوی کی تردید کی، اور کہا کہ یہ محض تمہاری جھوٹ تمنائی ہیں جن کی صداقت پر تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو۔