سورة التحريم - آیت 8

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ ۖ نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف توبہ کرو، خالص توبہ، تمھارا رب قریب ہے کہ تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے اور تمھیں ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، جس دن اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے، رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرفوں میں دوڑ رہا ہوگا، وہ کہہ رہے ہوں گے اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کر اور ہمیں بخش دے، یقیناً تو ہر چیز پر خوب قادر ہے۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[١٦] توبہ کی شرائط :۔ نَصُوْحًا۔ نصح بمعنی کسی کی خیر خواہی کرنا خواہ یہ قول سے ہو یا فعل سے اور نَصُوْحًاسے مراد ایسی سچی توبہ ہے جس سے اپنے نفس کی خیرخواہی مطلوب ہو۔ اور ایسی توبہ کی چند شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ اپنے کیے پر نادم ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے حضور مغفرت طلب کرے اور آئندہ وہ کام نہ کرنے کا عہد کرے۔ تیسرے یہ کہ یہ عہد محض زبانی یا ریا کاری کی بنا پر نہ ہو بلکہ آئندہ اس عہد کو حتی الامکان نباہنے کی کوشش کرے اور چوتھے یہ کہ اگر اس نے اس گناہ کے کام میں کسی شخص کا حق تلف کیا ہے تو اسے اس کی ادائیگی کرے یا اس سے معاف کرالے۔ اگر وہ حق مال سے تعلق رکھتا ہے تو اصل مظلوم مر چکا ہے تو اس کے وارثوں کو ادا کردے یا صدقہ کر دے۔ اور اگر وہ حق تلفی قول سے تعلق رکھتی ہے جیسے غیبت یا چغلی وغیرہ تو اس کے حق میں دعائے مغفرت کرتا رہے۔ وغیرذلک۔ [١٧] رسوائی سے مراد عذاب جہنم سے بچا لینا ہے۔ کیونکہ اس دن یہی سب سے بڑی رسوائی ہوگی۔ اس کے بجائے اللہ ایسے لوگوں کو فضل و شرف کے بلند مقامات پر سرفراز فرمائے گا۔ [١٨] اس نور کی تفصیل پہلے سورۃ حدید کی آیت نمبر ١٣ کے تحت گزر چکی ہے۔ [١٩] قیامت کے دن منافقوں کی مومنوں سے التجا کہ ہمیں ساتھ لے چلو :۔ یہ نور اہل ایمان کو اس وقت عطا کیا جائے گا جب میدان محشر میں لوگوں کے اعمال کا فیصلہ ہوچکا ہوگا اور انہیں جنت میں داخلہ کا ٹکٹ یا پروانہ مل چکا ہوگا۔ میدان محشر سے جنت کی راہ میں سخت تاریکی ہوگی، پھر پل صراط کو بھی عبور کرنا ہوگا۔ اہل ایمان اپنے اس عطا کردہ نور کی روشنی میں آگے بڑھتے جائیں گے۔ منافق بھی اس کے ساتھ چل پڑیں گے لیکن ان کا اپنا نور تو ہوگا نہیں یا اگر تھوڑا بہت ہوگا بھی تو بہت جلد بجھ جائے گا۔ انہیں دیکھ کر اہل ایمان کو یہ اندیشہ لاحق ہوگا کہ کہیں ان کا نور بھی راہ میں ہی نہ بجھ جائے۔ لہٰذا وہ اللہ سے دعا کریں گے کہ اے پروردگار! جنت میں پہنچنے تک ہمارا یہ نور برقرار اور بحال رکھنا۔ اور ہم سے جو گناہ یا تقصیرات سرزد ہوئی ہیں وہ معاف فرما دے۔