سورة فاطر - آیت 30

لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

تاکہ وہ انھیں ان کے اجر پورے پورے دے اور اپنے فضل سے انھیں زیادہ بھی دے، بلا شبہ وہ بے حد بخشنے والا، نہایت قدردان ہے۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[ ٣٥] اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے اعمال کی قدردانی، پیاسے کو پانی پلانے اور راہ سے کانٹے ہٹانے پر بخشش :۔ یعنی اللہ کا اپنے بندوں سے معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا ایک تنگ ظرف آقا کا معاملہ اپنے ملازم سے ہوتا ہے۔ جو بات بات پر اپنے ملازم پر گرفت تو کرتا ہے مگر اس کی خدمات کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اللہ کا اپنے بندوں سے معاملہ اس سے بالکل برعکس ہے۔ وہ اپنے بندوں کی چھوٹی موٹی غلطیاں معاف کردیتا ہے اور ان سے ان کی باز پرس بھی نہیں کرتا اور انسان جو نیک اعمال بجا لاتا ہے ان کا ان کے اجر سے بہت زیادہ بدلہ عطا فرماتا ہے۔ اسے اپنے بندے کی کوئی بھی ادا پسند آجائے تو اسے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ’’ایک شخص نے ایک کتا دیکھا جو پیاس کے مارے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا۔ اس نے اپنا موزا اتارا اور اس میں پانی بھر بھر کر اس کو پلانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ سیر ہوگیا۔ اللہ نے اس کے اس کام کی قدر کی اور اس کو جنت عطا فرمائی‘‘ (بخاری۔ کتاب الوضوء ۔ باب اذاشرب الکلب فی الاناء ) نیز سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ’’ایک مرتبہ ایک شخص کہیں جارہا تھا اس نے راستہ میں کانٹوں والی ایک ٹہنی دیکھی جسے اس نے راہ سے ہٹادیا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ کام بہت پسند آیا اور اسے بخش دیا‘‘ (بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب فضل التھجیر الی الظھر)