سورة لقمان - آیت 20

أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً ۗ وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بے شک اللہ نے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے تمھاری خاطر مسخر کردیا اور تم پر اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں پوری کردیں، اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم اور بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتا ہے۔

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[٢٦] تسخیرکائنات کا مفہوم:۔ تسخیر کائنات کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ کائنات کی ہر چیز انسان کی خادم ہے اور انسان مخدوم ہے۔ زمین، سمندر، پانی، ہوائیں، پہاڑ، چاند، سورج، ستارے یہی موٹی موٹی اشیائے کائنات گنی جاتی ہیں۔ ان کے انسان کا خادم ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر انسان کے بغیر ان چیزوں میں سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگڑتا۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ زمین میں جتنی بھی اشیاء موجود ہیں۔ خواہ وہ جمادات ہو یا نباتات ہوں یا حیوانات ہوں اللہ نے انسان کو اتنی عقل عطا فرما دی ہے کہ وہ ان میں سے جس کو چاہے اپنے قابو میں لاسکتا ہے اور اس سے حسب ضرورت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وہیں وہ چیزیں جن کا تعلق زمین سے نہیں مثلاً سورج، چاند، ستارے اور ہوائیں وغیرہ تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے قوانین بنا دیئے ہیں اور انھیں ایسے نظم و ضبط سے جکڑ رکھا ہے کہ انسان ان سے فائدے اٹھا سکتا ہے۔ اور اپنے معمولات زندگی اور کاروبار وغیرہ ٹھیک طرح سے سرانجام دے سکتا ہے۔ وہ مدتوں پہلے یہ معلوم کرسکتا ہے کہ سورج گرہن یا چاند گرہن کب لگے گا۔ بحر و بر کی تاریکیوں میں وقت اور راستے اور سمتیں معلوم کرسکتا ہے یعنی کہ ہزارہا سال بعد تک کے لئے تقویم بھی تیار کرسکتا ہے۔ اور نت نئی سے نئی ایجادات بھی وجود میں لاسکتا ہے اور یہی تسخیر کائنات کا مطلب ہے۔ تسخیر کائنات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان پہلے اپنے قریبی سیارہ چاند پر پہنچنے کی کوشش کرے پھر دوسرے سیاروں پر پہنچنے میں اپنی قیمتی عمر برباد کرے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ : تو کار جہاں رانکو ساختی کہ باآسمان نیز پرداختی؟ یعنی اس دنیا میں جو تیرے کرنے کے کام تھے کیا تو انھیں بخوبی سرانجام دے چکا ہے کہ اب تجھے آسمان پر اڑنے کی فکر پڑگئی ہے۔ [ ٢٧]ظاہری اور باطنی نعمتوں سے مراد؟ ظاہری نعمتیں وہ ہیں جن کو ہم حواس خمسہ کے ذریعہ معلوم کرسکتے ہیں۔ اور ان کا تعلق ہماری مادی زندگی اور معاشیات وغیرہ سے ہے۔ اور یہ بھی لاتعداد ہیں۔ اور باطنی سے مراد وہ نعمتیں ہیں جن سے ہماری اخلاقی تربیت ہوتی ہے اور روح کا تزکیہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی لاتعداد اور ان کا ذریعہ معلومات وحی الٰہی ہے۔ پھر کچھ ایسی نعمتیں ہیں جن کا تعلق دونوں سے ہے۔ مثلاً آنکھ سے ہم دیکھتے ہیں یہ آنکھ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن قوت باصرہ کا علم اس سے علیحدہ چیز ہے اسی طرح انسان کی قوت سامعہ، قوت ہاضمہ، قوت متخیلہ، قوت دافعہ وغیرہ بے شمار قوتیں انسان کے جسم کے اندر کام کر رہی ہیں۔ اگر یہ ٹھیک کام کرتی رہیں تو انسان تندرست رہتا ہے اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی گڑ بڑ ہوجائے تو انسان بیمار پڑجاتا ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ یہی وہ قسما قسم کی نعمتیں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دیا کہ ’’اگر تم اللہ کی نعمتیں گننا چاہو بھی تو کبھی ان کو شمار نہ کرسکو گے‘‘ (١٤: ٢٤، ١٦: ١٨) [ ٢٨] یعنی اللہ کی ان گنت نعمتوں کے باوجود کچھ لوگ ایسے نمک حرام ہیں کہ اللہ کے بارے میں بحث کرنے لگتے ہیں کہ اللہ کی ذات موجود بھی ہے یا نہیں یا اس کی صفات اور قدرتوں میں جھگڑا کرنے لگتے ہیں۔ اس آیت کی تشریح کے لئے دیکھئے سورۃ حج کی آیت نمبر ٨ کا حاشیہ نمبر ٨)