سورة المآئدہ - آیت 38

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جو چوری کرنے والا اور جو چوری کرنے والی ہے سو دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، اس کی جزا کے لیے جو ان دونوں نے کمایا، اللہ کی طرف سے عبرت کے لیے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

پچھلی آیات میں ڈکیتی کی سزا کے بعد اب چوری کی سزا بیان کی جارہی ہے۔ معاشرتی جرائم ہر سوسائٹی میں ہوتے ہیں ان میں امن و امان کیسے قائم رکھا جائے، اسلام نے عبرتناک سزا اس لیے تجویز کی ہے کہ لوگ نصیحت اور عبرت پکڑیں (۱) پہلی چوری پر دایاں ہاتھ پہنچنے تک کاٹا جائے گا اور اگر مال مسروقہ برآمد ہوجائے تو وہ اصل مالک کو لوٹایا جائے گا۔ (۲) حفاظت والے مال سے مال نکال لینا چوری ہے حد لگے گی۔ (۳) رکھوائے گئے مال سے کچھ مال نکال لیا خیانت ہے حد نہیں لگے گی۔ (۴) سفر کے دوران ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسلامی ریاست معاشی کفالت کرتی اور اخلاقی تربیت کرتی ہے لہٰذا وہ حد لگا سکتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک امیر مخزومی عورت (فاطمہ) نے چوری کی تو قریش ہاتھ کٹ جانے کی وجہ سے فکر مند ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے۔ اُسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے گفتگو کی تو آپ نے فرمایا ’’اسامہ کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کی سفارش کرتے ہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگو! تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے گمراہ ہوگئے کہ اگر کوئی امیر آدمی چوری کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے اور کمزور آدمی ہوتا تو اس پر حد لگاتے، اور اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا، آپ نے اس عورت کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیا۔ بعد میں وہ میرے پاس آیا کرتی تو میں اس کی حاجت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا کرتی اس نے توبہ کی اور اس کی توبہ اچھی رہی۔ (بخاری: ۶۷۸۸) دین کے احکامات : دین کے احکامات کے بارے میں ترس نہیں کھانا چاہیے ہاتھ کاٹنے کی سزا چوری کرنے کے بدلہ میں ملی ہے۔ مال مسروقہ بھی مالک کو لوٹایا جائے گا اگر برآمد ہوجائے۔ یا اگر وہ اتنی مالیت کی ادائیگی کرسکتا ہو تو اتنا مال وصول کرکے مالک کو دلوایا جائے گا۔