سورة المآئدہ - آیت 34

إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

مگر جو لوگ اس سے پہلے توبہ کرلیں کہ تم ان پر قابو پاؤ تو جان لو کہ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

اسلام میں توبہ سے گناہوں کی معافی: اس کی بھی دو صورتیں ہیں۔ (۱) کوئی شخص حالت کفر میں فساد فی الارض کرتا رہا پھر مسلمان ہوکر اسلامی ریاست کی اطاعت کا اعلان کردے تو اسے معاف کردیا جائے گا۔ اور سابقہ گناہوں پر اس کا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ (۲) کوئی شخص اسلام لاکر بھی فساد کا مجرم رہا لیکن بعد میں توبہ کرلی اور امن پسند اور قانون کا پابند ہوکر زندگی گزار نے لگا تو اب اسکے سابقہ گناہوں کا سراغ لگاکر اسے سزا نہیں دی جائے گی اس کے سرکاری جرائم تو معاف ہوجائیں گے۔ لیکن بندوں کے جو حقوق غصب کیے ہیں انکی تلافی بہر حال اس کے ذمہ رہے گی خواہ ان کی ادائیگی کرے یا معاف کروالے۔ لیکن امام شوکانی اور امام ابن کثیر کہتے ہیں کہ ان کو مطلق معاف کردیا جائے گا۔ البتہ گرفتاری کے بعد تو بہ سے جرائم معاف نہیں ہونگے اور وہ مستحق سزا ہوں گے۔ (ابن کثیر) جو شخص توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔