سورة غافر - آیت 2

تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے، جو سب پر غالب، ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

قرآن کو نازل کرنے والے کی چند جامع صفات: آیت نمبر ۲،۳ اس سورت کی تمہید ہیں۔ جن میں مکہ کے حالات حاضرہ اور حق و باطل کے جھگڑوں کا ذکر بھی آ گیا ہے۔ اور اس کتاب کے نازل کرنے والے کی چند متعلقہ صفات اس انداز سے بیان کی گئی ہیں۔ کہ دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔ کفار کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل نہیں بلکہ تمہاری اپنی اختراع ہے۔ آغاز ہی میں فرما دیا کہ یہ کتاب کسی کمزور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اس اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جو کائنات کی ہر چیز پر غالب ہے اور تمہاری معاندانہ کوششوں اور سازشوں کے باوجود اپنے کلمہ کو سر بلند اور نافذ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ ہر چیز کا براہ راست اور پورا پورا علم رکھتا ہے۔ لہٰذ اس کتاب میں اے کفار مکہ! جو خبریں بھی دی گئی ہیں، سب درست اور یقینی ہیں۔ تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اپنے فرمانبردار بندوں کے بہت سے گناہ از خود ہی بخشتا رہتا ہے۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ کافر توبہ کر کے حلقہ اسلام میں داخل ہو جائیں تو ان کی توبہ قبول کر کے ان کے سابقہ گناہوں کو معاف کر دینے والا ہے اور اس صفت کا تعلق صرف نو مسلموں سے نہیں بلکہ جو بندہ بھی اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اس کی طرف رجوع کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگے تو وہ اللہ اس کے گناہ بھی معاف کر دیتا ہے۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنے باغیوں کو سخت سزا دے کر ان کی اکڑی ہوئی گردنیں توڑ سکتا ہے خواہ وہ یہ عذاب دنیا میں دے یا آخرت میں۔ اور اس کی چھٹی صفت یہ ہے کہ ’’ وہ کشادہ دست ہے۔ ہر وقت انعامات کی بارش کرتا رہتا ہے اور اس سے اپنے نافرمانوں کو بھی محروم نہیں فرماتا۔‘‘ اتنی صفات بیان کرنے کےبعد دو بنیادی جھگڑوں کی حقیقت بیان فرما دی۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار مکہ کے درمیان چل رہے تھے۔ پہلا یہ کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ باقی تمام معبود جھوٹے، باطل اور بے کار ہیں اور دوسرا یہ کہ روز آخرت کا قیام یقینی ہے۔ اور تم سب کو یقیناً اللہ کے حضور پیش ہونا ہو گا۔