سورة الفرقان - آیت 63

وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

مومنوں کا کردار: یہاں اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف کا تذکرہ ہے کہ وہ زمین پر سکون ووقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، فساد اور ظلم وستم نہیں کرتے۔ جیسے حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر بیماروں کی طرح قدم قدم چلے کہ یہ ریاکاروں کا کام ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ: ’’آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔‘‘ (ترمذی: ۳۶۳۷، مسند احمد: ۲/ ۱۴۴) ایک حدیث میں ہے کہ جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ وقار اور تسکین کے ساتھ آؤ جو جماعت کے ساتھ مل جائے اسے ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے اسے بعد میں پوری کر لو۔ (بخاری: ۶۳۶) اللہ کے نیک بندوں سے جب جاہل لوگ، جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آئے، بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں۔ اور سوائے بھلی بات کے گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَا اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ﴾ (القصص: ۵۵) ’’اور جب بیہودہ بات کان پڑتی ہے تو اس سے کنارہ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم پر سلام ہو، ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ رحمن کے بندے وہ ہیں جو ایک طرف راتوں کو اٹھ کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ ڈرتے بھی ہیں کہ کہیں کسی غلطی یا کوتاہی پر اللہ کی گرفت میں نہ آجائیں۔ اس لیے وہ عذاب جہنم سے بھی پناہ مانگتے ہیں گویا اللہ کی عبادت واطاعت کے باوجود اللہ کے عذاب اور اس کے مواخذہ سے انسان کو بے خوف اور اپنی عبادات وطاعات الٰہی پر کسی غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے چنانچہ ارشاد ہے: ﴿وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَا اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ﴾ (المومنون: ۶۰) ’’اور وہ لوگ کہ جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل ڈرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔‘‘ ڈر صرف اسی بات کا نہیں کہ انھیں بارگاہ الٰہی میں حاضر ہونا ہے بلکہ اس کے ساتھ اس کا بھی ڈر ہے کہ ان کا صدقہ وخیرات قبول ہوتا بھی ہے کہ نہیں؟ ایک حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی بابت پوچھا، کیا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے اور چوری کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہیں۔ اے ابوبکر کی بیٹی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے، نماز پڑھتے اور صدقہ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے اعمال نامقبول نہ ہو جائیں۔ (ترمذی: ۳۱۴۲)