سورة مريم - آیت 81

وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا لیے، تاکہ وہ ان کے لیے باعث عزت ہوں۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

’’عِزًّا‘‘ کا معنی یہ ہے کہ ان کے معبود ان کے لیے سبب عزت بن جائیں گے اور عزت سے مراد عربی زبان میں کسی شخص کا ایسا طاقتور اور بالا دست ہونا ہے جس پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے (اس کی ضد ذلت ہے) اور ان کے معبودوں کا ان کے لیے سبب عزت ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ ان کی حمایت پر ہوں گے جس کی وجہ سے ان کا کوئی مخالف ان پر ہاتھ نہ ڈال سکے گا الٹا ان کے مخالف ہوں گے۔ یعنی وہ کہہ دیں گے کہ ہم نے ان کو کب کہا تھا کہ وہ ہماری عبادت کیا کریں، نیز ہمیں تو آج تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ ہماری عبادت کرتے بھی ہیں یا نہیں؟