سورة الحجر - آیت 41

قَالَ هَٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

فرمایا یہ راستہ ہے جو مجھ تک سیدھا ہے۔

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

ابلیس کے سیاہ کارنامے: شیطان دھوکے سے، فریب سے، جھوٹ بول کر، وسوسے ڈال کر دنیا کے فوائد میں الجھا کر غلط قسم کی توقعات اور وعدے دے کر انسان کو گمراہ کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندوں پر تیراداؤ نہیں چلے گا اس کامطلب یہ نہیں کہ ان سے کوئی گناہ ہی سرزد نہ ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان سے ایسا گناہ نہیں ہوگا جس کے بعد وہ نادم اور تائب نہ ہوں۔کیونکہ وہی گناہ انسان کی ہلاکت کاباعث ہے۔ جس کے بعد انسان کے اندر ندامت کااحساس اور اللہ سے توبہ کامادہ پیدانہ ہو۔ ایسے گناہ کے بعد ہی انسان گناہ پر گناہ کرتاچلاجاتاہے، اور بالآخر دائمی تباہی و ہلاکت اس کامقدر بن جاتی ہے، اور اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ گناہ پر اصرار نہیں کرتے بلکہ فوراً توبہ کرکے آئندہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہنم وعدے کی جگہ: یعنی جتنے بھی تیرے پیروکار ہوں گے سب جہنم کاایندھن بنیں گے۔