سورة العنكبوت - آیت 15

فَأَنجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

پھر ہم نے اسے بچالیا اور کشتی والوں کو بھی اور اسے جہانوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔

تفسیر ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(٧) آیت ١٥ میں فرمایا، وجعلناھا آیۃ للعالمین۔ بظاہر اس سے مراد خود کشتی ہے جوپہاڑ کی چوٹی پر صدیوں موجود رہی اور بعد کی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنی رہی، سورۃ القمر میں بھی ہے کہ ہم نے اس کشتی کو نشانی بنا کرچھوڑ دیا، ابن جریر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ عہد صحابہ میں جب مسلمان الجزیرہ کے علاقہ میں گئے تو انہوں نے کوہ جودی پر ایک کشتی کو دیکھا، اس دور کی تکیشفات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کشی کے آثار تاحال موجود ہیں۔